لڑائی
جاری، ہلاکتوں پر متضاد
دعوے
شہریوں کو بچانے
کے لیے شدت پسندوں کی آبادی
سے دور کمین گاہوں کو نشانہ
بنایا جا رہا: فوج
پاکستان فوجی حکام نے
صوبہ سرحد کے تین اضلاع
میں شدت پسندوں کے خلاف
جاری کارروائی میں کامیاب
پیش رفت کے دعوے کے ساتھ
اب تک کی لڑائی میں مارے
جانے والے شدت پسندوں
کی تعداد ساڑھے سات سو
بتائی ہے۔ البتہ طالبان
کے ترجمان کے مطابق ان
کے محض بارہ ساتھی ہلاک
ہوئے ہیں۔
دوسری
جانب سکیورٹی فورسز کو
انتیس افراد کا جانی نقصان
برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ
ستتر اہلکار زخمی ہوئے
ہیں۔
حکام نے یہ بھی
دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند
اب فرار کی راہ اپنا رہے
ہیں اور ان کے ساتھ ملے
ہوئے جرائم پیشہ اور نئے
بھرتی ہونے والے افراد
ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
تاہم طالبان ترجمان مسلم
خان کے بقول سوات کا صدر
مقام مینگورہ اب تک ان
کے قبضے میں ہے اور ان کے
جنگجو جگہ جگہ پر مقابلہ
کر رہے ہیں۔
فوج کے
ترجمان میجر جنرل اطہر
عباس نے ایک اخباری کانفرنس
کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز
کو سوات، شانگلہ، لوئر
دیر اور بونیر میں قابل
ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی
ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ
شدت پسندوں کے مینگورہ،
پیوچار، کبل، خوازہ خیلہ
اور شانگلہ میں ٹھکانوں
کو نشانہ بنایا جا رہا
ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام
شہریوں کو بچانے کی خاطر
فی الحال شدت پسندوں کی
آبادی سے دور کمین گاہوں
کو نشانہ بنایا جا رہا
ہے۔
منگل کے روز ایک
اہم پیش رفت میں چھاتہ
بردار فوجی ہیلی کاپٹروں
کے ذریعے شدت پسندوں کا
گڑھ سمجھے جانے والے علاقے
وادی پیوچار میں اتارے
ہیں۔ ان کا مشن علاقے کی
تلاشی لینا اور کمین گاہوں
کو تباہ کرنا ہے۔ طالبان
نے بھی چھاتہ بردار فوجیوں
کے پہنچنے کی تصدیق کی
ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ
وہ ان کے مقابلے کے لیے
تیار ہیں۔
فوجی ترجمان
کے مطابق مارے جانے والے
شدت پسندوں میں سے چار
سو سے زائد سوات کی لڑائی
میں ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی
فورسز کو اب تک اٹھارہ
فوجیوں کا نقصان اٹھانا
پڑا ہے۔ مولانا فضل اللہ
کے مرکز امام ڈھیری میں
بھی جھڑپ کے دوران چار
مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک
کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سوات کے گرڈ سٹیشن
کا دفاع کرنے والی سیکورٹی
فورسز کو شدت پسندوں نے
چاروں اطراف سے گھیرے
میں رکھا ہوا ہے۔ ایک حملے
میں دو سکیورٹی اہلکار
ہلاک ہوئے ہیں۔ کانجو
پولیس سٹیشن پر ایک حملے
میں چار سکیورٹی اہلکار
ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے
ہیں۔
دیر میں حیا
سرائے میں کارروائی جاری
ہے اور شاہ بانڈائی کے
مقام پر تین فوجی زخمی
ہوئے ہیں۔
فوجی ترجمان نے تسلیم
کیا کہ لڑائی والے علاقوں
میں کرفیو غیرمعمولی
طور پر طویل ہے تاہم ان
کا مؤقف تھا کہ اس وقت اس
علاقوں کو جانے والی سڑکوں
پر فوجی کمک بھیجی جا رہی
ہے لہٰذا یہ عمل مکمل ہونے
پر نرمی کر دی جائے گی۔لڑائی کے تیسرے مقام
یعنی ضلع بونیر کے صدر
مقام ڈگر کے اطراف میں
سکیورٹی فورسز اپنی پوزیشنیں
مستحکم کر رہی ہیں۔ شدت
پسندوں کے سلطان واس میں
ٹھکانے کو گھیرے میں لے
رکھا ہے اور فائرنگ کا
تبادلہ جاری ہے۔
فوجی
ترجمان نے تاہم اس سوال
کا جواب نہیں دیا کے آیا
طالبان کی قیادت ابھی
بھی جنگ والے علاقے میں
موجود ہے یا نہیں البتہ
ان کا کہنا تھا کہ ان کے
بھاگنے کے راستوں کو بند
کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا
تھا کہ مولانا فضل اللہ
سمیت تمام طالبان قیادت
ان کے نشانے پر ہے۔ ان کا
کہنا تھا کہ ابھی کسی غیرملکی
شدت پسند کی موجودگی کی
اطلاع انہیں نہیں ملی
ہے۔
فوجی ترجمان
نے تسلیم کیا کہ لڑائی
والے علاقوں میں کرفیو
غیرمعمولی طور پر طویل
ہے تاہم ان کا مؤقف تھا
کہ اس وقت اس علاقوں کو
جانے والی سڑکوں پر فوجی
کمک بھیجی جا رہی ہے لہٰذا
یہ عمل مکمل ہونے پر نرمی
کر دی جائے گی۔
فوجی
ترجمان نے جاری فوجی آپریشن
کب تک مکمل ہوگا اس بارے
میں آج بھی کوئی وقت
دینے سے انکار کیا۔
لڑائی جاری، ہلاکتوں پر متضاد دعوے
شہریوں کو بچانے کے لیے شدت پسندوں کی آبادی سے دور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا: فوج
پاکستان فوجی حکام نے صوبہ سرحد کے تین اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں کامیاب پیش رفت کے دعوے کے ساتھ اب تک کی لڑائی میں مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد ساڑھے سات سو بتائی ہے۔ البتہ طالبان کے ترجمان کے مطابق ان کے محض بارہ ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب سکیورٹی فورسز کو انتیس افراد کا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ ستتر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند اب فرار کی راہ اپنا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ملے ہوئے جرائم پیشہ اور نئے بھرتی ہونے والے افراد ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ تاہم طالبان ترجمان مسلم خان کے بقول سوات کا صدر مقام مینگورہ اب تک ان کے قبضے میں ہے اور ان کے جنگجو جگہ جگہ پر مقابلہ کر رہے ہیں۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو سوات، شانگلہ، لوئر دیر اور بونیر میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کے مینگورہ، پیوچار، کبل، خوازہ خیلہ اور شانگلہ میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کو بچانے کی خاطر فی الحال شدت پسندوں کی آبادی سے دور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
منگل کے روز ایک اہم پیش رفت میں چھاتہ بردار فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدت پسندوں کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے وادی پیوچار میں اتارے ہیں۔ ان کا مشن علاقے کی تلاشی لینا اور کمین گاہوں کو تباہ کرنا ہے۔ طالبان نے بھی چھاتہ بردار فوجیوں کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے چار سو سے زائد سوات کی لڑائی میں ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کو اب تک اٹھارہ فوجیوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری میں بھی جھڑپ کے دوران چار مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سوات کے گرڈ سٹیشن کا دفاع کرنے والی سیکورٹی فورسز کو شدت پسندوں نے چاروں اطراف سے گھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ ایک حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ کانجو پولیس سٹیشن پر ایک حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔
دیر میں حیا سرائے میں کارروائی جاری ہے اور شاہ بانڈائی کے مقام پر تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
لڑائی کے تیسرے مقام یعنی ضلع بونیر کے صدر مقام ڈگر کے اطراف میں سکیورٹی فورسز اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہیں۔ شدت پسندوں کے سلطان واس میں ٹھکانے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
فوجی ترجمان نے تاہم اس سوال کا جواب نہیں دیا کے آیا طالبان کی قیادت ابھی بھی جنگ والے علاقے میں موجود ہے یا نہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھاگنے کے راستوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل اللہ سمیت تمام طالبان قیادت ان کے نشانے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی کسی غیرملکی شدت پسند کی موجودگی کی اطلاع انہیں نہیں ملی ہے۔
فوجی ترجمان نے تسلیم کیا کہ لڑائی والے علاقوں میں کرفیو غیرمعمولی طور پر طویل ہے تاہم ان کا مؤقف تھا کہ اس وقت اس علاقوں کو جانے والی سڑکوں پر فوجی کمک بھیجی جا رہی ہے لہٰذا یہ عمل مکمل ہونے پر نرمی کر دی جائے گی۔
فوجی ترجمان نے جاری فوجی آپریشن کب تک مکمل ہوگا اس بارے میں آج بھی کوئی وقت دینے سے انکار کیا۔



اسلام
آباد (وقائع نگار خصوصی
+ لیڈی رپورٹر + ریڈیو مانیٹرنگ
+ نیٹ نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم
سید یوسف رضا گیلانی نے
سوات میں فوجی آپریشن
سے پیدا ہونے والی صورتحال
پر غور کے لئے پیر (18 مئی)
کو اسلام آباد میں آل پارٹیز
کانفرنس طلب کر لی ہے۔
اس بات کا اعلان وفاقی
وزیر پارلیمانی امور
ڈاکٹر بابر اعوان نے جمعرات
کو قومی اسمبلی کے اجلاس
میں کیا۔ انہوں نے بتایا
کہ آرمی چیف جنرل اشفاق
کیانی آج سیاسی جماعتوں
کے پارلیمانی قائدین
کو سوات کی صورتحال پر
’’ان کیمرہ‘‘ بریفنگ
دیں گے۔ اے پی سی میں سیاسی
جماعتوں کے قائدین کو
سوات اور مالاکنڈ میں
جاری آپریشن کے بارے میں
اعتماد میں لیا جائے گا۔
آل پارٹیز کانفرنس پیر
کو صبح 10 بجے وزیراعظم ہائوس
میں ہو گی جس میں پارلیمنٹ
کے اندر اور باہر کی جماعتوں
کی قیادت کو مدعو کیا جائے
گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی
کی مرکزی مجلس عاملہ اور
فیڈرل کونسل کا اجلاس
ہفتہ کو ہو گا۔ قومی اسمبلی
سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم
یوسف رضا گیلانی نے کہا
کہ فوج وادی پیوچار تک
پہنچ گئی ہے‘ سوات میں
جاری جنگ تو ہم جیت جائیں
گے اور اگر ہم بے گھر ہونے
والے لاکھوں افراد کی
مدد نہ کر سکے اور ان کے
دل نہ جیت سکے تو ہم پبلک
ریلیشنز کی جنگ ہار جائیں
گے‘ متاثرین کے دل اور
ذہن بھی لازماً جیتنا
ہوں گے۔ قوم سیسہ پلائی
دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
پارلیمانی پارٹیز کے
سربراہوں کو ان کیمرہ
بریفنگ دی جائے گی ایسی
باتیں ہیں جو ایوان میں
نہیں بتائی جا سکتیں۔
امن قائم ہوتے ہی فوج واپس
آ جائے گی۔ میں نے آرمی
چیف سے بریفنگ لی ہے سوات
اور مالاکنڈ کے لوگ بہتر
جانتے ہیں کہ ہماری فوج
بہت مہارت کے ساتھ ہیلی
کاپٹروں کے ذریعے خطرناک
علاقوں میں اتر گئی ہے
انشاء اللہ ہم یہ جنگ جیت
جائیں گے۔ فوج کے ذریعے
جنگ جیت گئے اور عوامی
سطح پر ہار گئے تو یہ افسوسناک
ہو گا۔ بے گھر افراد کیلئے
کام کر رہے ہیں پوری قوم
جذبہ رکھتی ہے۔ زلزلہ
زدگان کی طرح جس طرح لوگوں
نے مدد کی اب اسی طرح کراچی
سے خیبر تک انکی مدد کرینگے۔
ایس ایس جی گروپ کا سپیشل
سپورٹ گروپ قائم کیا۔
جنرل ندیم اس کے سربراہ
ہیں۔ وزیر اطلاعات صوبائی
حکومت کے نمائندے اور
سپیشل سپورٹ گروپ کے ساتھ
مل کر روزانہ کام کریں
گے‘ ایوان میں رپورٹ پیش
کی جائے گی۔ آزادی کے بعد
یہ بڑا واقعہ ہے۔ طالبان
کی طرف سے ارکان اسمبلی
کو دھمکیاں ان کے بچوں
کو اٹھا لینے کی دھمکیاں
افسوسناک ہیں۔ بے گھر
افراد ٹھنڈے علاقوں سے
آئے ہیں وہ گرمی برداشت
نہیں کر رہے 11 کیمپوں میں
بجلی فراہم کر دی گئی ہے
10 ہزار پنکھوں کا آرڈر دیدیا۔
فوج نے اپنے ایک روز کا
کھانے کا کوٹہ بھی متاثرین
کیلئے وقف کر دیا ہے اتنے
بڑے آپریشن کو نمٹانا
آسان کام نہیں یہ لوگ آپ
کے مستقبل کیلئے قربانیاں
دے رہے ہیں۔ فنڈز کو ویب
سائٹ پر جاری کریں گے‘
سپیکر فہمیدہ مرزا نے
کہا کہ متاثرین کے ساتھ
پوری قوم کھڑی ہے۔ سپیکر
ریلیف فنڈ قائم کیا گیا
ہے 16 ٹرک متاثرین کیلئے
لیکر گئے تھے‘ چیمبرز
آف کامرس مختلف علاقوں
سے مدد کے لئے آگے آئیں۔
بعد ازاں وزیراعظم نے
چودھری نثار کے نکتہ اعتراض
پر کہا کہ پارلیمانی پارٹی
لیڈرز کو ان کیمرہ بریفنگ
دی جائی گی‘ معاہدہ ٹوٹنے
اور آپریشن کے نتائج اس
میں بتائے جائیں گے۔ فوج
وہاں ہمیشہ نہیں رہے گی‘
امن قائم ہو جاتا ہے تو
فوج واپس آ جائے گی۔ پارلیمانی
لیڈرز کے خدشات کو
ضرور دور کیا جائے گا۔