Urdu News

سوات آپریشن : گیلانی نے پیر کو آل پارٹیز کانفرنس بلا لی ۔۔۔ کیانی آج پارلیمانی قائدین کو ان کیمرہ بریفنگ دیں گے

ـ 1 دن 14 گھنٹے پہلے شائع کی گئی
سوات آپریشن : گیلانی نے پیر کو آل پارٹیز کانفرنس بلا لی ۔۔۔ کیانی آج پارلیمانی قائدین کو ان کیمرہ بریفنگ دیں گے اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + لیڈی رپورٹر + ریڈیو مانیٹرنگ + نیٹ نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سوات میں فوجی آپریشن سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لئے پیر (18 مئی) کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی ہے۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی آج سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین کو سوات کی صورتحال پر ’’ان کیمرہ‘‘ بریفنگ دیں گے۔ اے پی سی میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو سوات اور مالاکنڈ میں جاری آپریشن کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے گا۔ آل پارٹیز کانفرنس پیر کو صبح 10 بجے وزیراعظم ہائوس میں ہو گی جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں کی قیادت کو مدعو کیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور فیڈرل کونسل کا اجلاس ہفتہ کو ہو گا۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ فوج وادی پیوچار تک پہنچ گئی ہے‘ سوات میں جاری جنگ تو ہم جیت جائیں گے اور اگر ہم بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی مدد نہ کر سکے اور ان کے دل نہ جیت سکے تو ہم پبلک ریلیشنز کی جنگ ہار جائیں گے‘ متاثرین کے دل اور ذہن بھی لازماً جیتنا ہوں گے۔ قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ پارلیمانی پارٹیز کے سربراہوں کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی ایسی باتیں ہیں جو ایوان میں نہیں بتائی جا سکتیں۔ امن قائم ہوتے ہی فوج واپس آ جائے گی۔ میں نے آرمی چیف سے بریفنگ لی ہے سوات اور مالاکنڈ کے لوگ بہتر جانتے ہیں کہ ہماری فوج بہت مہارت کے ساتھ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خطرناک علاقوں میں اتر گئی ہے انشاء اللہ ہم یہ جنگ جیت جائیں گے۔ فوج کے ذریعے جنگ جیت گئے اور عوامی سطح پر ہار گئے تو یہ افسوسناک ہو گا۔ بے گھر افراد کیلئے کام کر رہے ہیں پوری قوم جذبہ رکھتی ہے۔ زلزلہ زدگان کی طرح جس طرح لوگوں نے مدد کی اب اسی طرح کراچی سے خیبر تک انکی مدد کرینگے۔ ایس ایس جی گروپ کا سپیشل سپورٹ گروپ قائم کیا۔ جنرل ندیم اس کے سربراہ ہیں۔ وزیر اطلاعات صوبائی حکومت کے نمائندے اور سپیشل سپورٹ گروپ کے ساتھ مل کر روزانہ کام کریں گے‘ ایوان میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ آزادی کے بعد یہ بڑا واقعہ ہے۔ طالبان کی طرف سے ارکان اسمبلی کو دھمکیاں ان کے بچوں کو اٹھا لینے کی دھمکیاں افسوسناک ہیں۔ بے گھر افراد ٹھنڈے علاقوں سے آئے ہیں وہ گرمی برداشت نہیں کر رہے 11 کیمپوں میں بجلی فراہم کر دی گئی ہے 10 ہزار پنکھوں کا آرڈر دیدیا۔ فوج نے اپنے ایک روز کا کھانے کا کوٹہ بھی متاثرین کیلئے وقف کر دیا ہے اتنے بڑے آپریشن کو نمٹانا آسان کام نہیں یہ لوگ آپ کے مستقبل کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ فنڈز کو ویب سائٹ پر جاری کریں گے‘ سپیکر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ متاثرین کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے۔ سپیکر ریلیف فنڈ قائم کیا گیا ہے 16 ٹرک متاثرین کیلئے لیکر گئے تھے‘ چیمبرز آف کامرس مختلف علاقوں سے مدد کے لئے آگے آئیں۔ بعد ازاں وزیراعظم نے چودھری نثار کے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پارلیمانی پارٹی لیڈرز کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائی گی‘ معاہدہ ٹوٹنے اور آپریشن کے نتائج اس میں بتائے جائیں گے۔ فوج وہاں ہمیشہ نہیں رہے گی‘ امن قائم ہو جاتا ہے تو فوج واپس آ جائے گی۔ پارلیمانی لیڈرز کے خدشات کو ضرور دور کیا جائے گا۔

لڑائی جاری، ہلاکتوں پر متضاد دعوے

شہریوں کو بچانے کے لیے شدت پسندوں کی آبادی سے دور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا: فوج

پاکستان فوجی حکام نے صوبہ سرحد کے تین اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں کامیاب پیش رفت کے دعوے کے ساتھ اب تک کی لڑائی میں مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد ساڑھے سات سو بتائی ہے۔ البتہ طالبان کے ترجمان کے مطابق ان کے محض بارہ ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کو انتیس افراد کا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ ستتر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند اب فرار کی راہ اپنا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ملے ہوئے جرائم پیشہ اور نئے بھرتی ہونے والے افراد ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ تاہم طالبان ترجمان مسلم خان کے بقول سوات کا صدر مقام مینگورہ اب تک ان کے قبضے میں ہے اور ان کے جنگجو جگہ جگہ پر مقابلہ کر رہے ہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو سوات، شانگلہ، لوئر دیر اور بونیر میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کے مینگورہ، پیوچار، کبل، خوازہ خیلہ اور شانگلہ میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کو بچانے کی خاطر فی الحال شدت پسندوں کی آبادی سے دور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

منگل کے روز ایک اہم پیش رفت میں چھاتہ بردار فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدت پسندوں کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے وادی پیوچار میں اتارے ہیں۔ ان کا مشن علاقے کی تلاشی لینا اور کمین گاہوں کو تباہ کرنا ہے۔ طالبان نے بھی چھاتہ بردار فوجیوں کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے چار سو سے زائد سوات کی لڑائی میں ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کو اب تک اٹھارہ فوجیوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری میں بھی جھڑپ کے دوران چار مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سوات کے گرڈ سٹیشن کا دفاع کرنے والی سیکورٹی فورسز کو شدت پسندوں نے چاروں اطراف سے گھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ ایک حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ کانجو پولیس سٹیشن پر ایک حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔

دیر میں حیا سرائے میں کارروائی جاری ہے اور شاہ بانڈائی کے مقام پر تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

فوجی ترجمان نے تسلیم کیا کہ لڑائی والے علاقوں میں کرفیو غیرمعمولی طور پر طویل ہے تاہم ان کا مؤقف تھا کہ اس وقت اس علاقوں کو جانے والی سڑکوں پر فوجی کمک بھیجی جا رہی ہے لہٰذا یہ عمل مکمل ہونے پر نرمی کر دی جائے گی۔

لڑائی کے تیسرے مقام یعنی ضلع بونیر کے صدر مقام ڈگر کے اطراف میں سکیورٹی فورسز اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہیں۔ شدت پسندوں کے سلطان واس میں ٹھکانے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

فوجی ترجمان نے تاہم اس سوال کا جواب نہیں دیا کے آیا طالبان کی قیادت ابھی بھی جنگ والے علاقے میں موجود ہے یا نہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھاگنے کے راستوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل اللہ سمیت تمام طالبان قیادت ان کے نشانے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی کسی غیرملکی شدت پسند کی موجودگی کی اطلاع انہیں نہیں ملی ہے۔

فوجی ترجمان نے تسلیم کیا کہ لڑائی والے علاقوں میں کرفیو غیرمعمولی طور پر طویل ہے تاہم ان کا مؤقف تھا کہ اس وقت اس علاقوں کو جانے والی سڑکوں پر فوجی کمک بھیجی جا رہی ہے لہٰذا یہ عمل مکمل ہونے پر نرمی کر دی جائے گی۔

فوجی ترجمان نے جاری فوجی آپریشن کب تک مکمل ہوگا اس بارے میں آج بھی کوئی وقت دینے سے انکار کیا۔

 

سوات/بونیر،سکیورٹی فورسز کا آپریشن،77شدت پسند ہلاک، متعدد زخمی ،تحریک طالبان کا 20سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کر نے کا دعویٰ، سکیورٹی فورسز کی تردید، دوساتھی مارے گئے، مسلم خان ،مارٹر حملوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں بچوں اور 6خواتین سمیت 27 عام شہری جاں بحق ہوئے، برطانوی ریڈیو ،مختلف علاقوں اور مینگورہ شہر پر طالبان کا قبضہ برقرار، ،زمرد کی کانوں پر سکیورٹی فورسز نے کنٹرو ل حاصل کر لیا،ذرائع، 35عسکریت پسند مارے گئے، آئی ایس پی آر ۔اپ ڈیٹ:
راولپنڈی / بونیر/سوات(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6مئی۔2009ء)سوات اور بونیر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں 77شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ برطانوی ریڈیو کا کہنا ہے کہ مارٹر گولے گرنے اورفائرنگ کے نتیجے میں 12 بچوں اور 6خواتین سمیت 27 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں سکیورٹی فورسز نے زمرد کی کان کاکنٹرول حاصل کرلیا ہے، سوات کے مختلف علاقوں اور مینگورہ شہر پر طالبان کا قبضہ برقرار، ضلع بھر میں کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے اور کھانے پینے کی اشیاء بھی ناپید ہو گئی ہیں، عسکریت پسندوں نے مینگورہ میں تین بنک لوٹ لئے،مینگورہ سمیت سوات کے بیشتر علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، طالبان ترجمان مسلم خان نے اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مختلف مقامات پر حملوں میں 20 سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کر نے کا دعویٰ کیا ہے تاہم فوج نے مسلم خان کے دعویٰ کو مسترد کر دیا،سیدو شریف میڈیکل کالج کے ایک طالب علم محمد رفیع نے فون پر برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ اس وقت چالیس طالبات اور تیس طلبہ ہاسٹلوں میں محصور ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم پڑ گئی، بسکٹ پر گزار ہ کررہے ہیں ۔ امریکی نشریاتی ادارے آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ضلع بونیر اور وادی سوات میں طالبا ن جنگجووٴں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی شدید لڑائی میں 77 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ بونیر کے علاقوں پیر بابا اور سلطان وس میں جنگجووٴں کے ٹھکانوں پر توپ خانے کی مدد سے حملوں میں 27 طالبان مارے گئے جبکہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے مضافات میں طالبان کے زیر قبضہ زمرد کی کانوں پر فضائی بمباری میں مجموعی طور پر 50 انتہاپسندوں کو ہلاک کردیا گیا۔ راولپنڈی سے جاری ہونے والے آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق عسکریت پسند سوات میں امن معاہدے کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ کانجو ، سیدو شریف، مٹہ اور سوات کے دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ عسکریت پسندوں نے سوات کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے بارودی سرنگیں نصب کر دیں ہیں۔ بیان کے مطابق ایک روز قبل مینگورہ گرڈ اسٹیشن پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار شہید ہو گئے جبکہ سوات کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے چھ سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ بدھ کو بحرین سوات میں باردوی سرنگ پھٹنے سے دو فوجی شہید ہو گئے۔ مسلح عسکریت پسند اپنے ٹھکانوں نے اتر کر شہری حدود میں داخل ہو گئے ہیں اور شہریوں کے مکانات اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ عسکریت پسندوں نے مینگورہ شہر میں تین بنک لوٹ لیے اور ڈی آئی جی پولیس اور کمشنر مینگورہ کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔ سیدو شریف اور مٹہ پولیس اسٹیشن کے علاقہ میں عسکریت پسندوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجہ میں مبینہ طور پر دو عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز کو زمرد کے کانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے فائرنگ کے تبادلے میں تختہ بند بائی پاس پر زمرد کی کانوں کے ارد گرد 35 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔دیر اور بونیر کی صورتحال کے حوالے سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان علاقوں میں آپریشن موثر انداز میں جاری ہے اور مختلف علاقوں میں تلاشی اور علاقہ کو گھیرے میں لینے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ سلطان واس کے علاقہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔ عسکریت پسندوں نے ایک گرلز کالج پر راکٹوں سے حملہ کیاجس سے کالج کی عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔نجی ٹی وی کے مطابق مطابق سکیورٹی فورسز نے فضاگٹ، حیات آباد اور ملوک آباد میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی زمردکی کان میں77عسکریت پسند مارے گئے اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ عسکریت پسندوں نے سیدو شریف میں بنک لوٹنے کے بعد عمارت کو آگ لگادی۔ مینگورہ میں شہری شدید خوف ہراس کی وجہ سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ مینگورہ سمیت سوات کے بیشتر علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گذشتہ روز کرفیو میں وقفے کے دوران ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی۔ وادی کے مختلف علاقوں فضاگٹ،کانجو،رحیم آباد او رقمبر میں سیکورٹی فورسز اور طالبان جنگجووٴں کے درمیان شدیدفائرنگ کے تبادلے کے علاوہ اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں شیلنک بھی کی جارہی مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ مسلسل کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء بھی ناپید ہو گئی ہیں۔ادھر کمشنر، ناظم، ڈی آئی جی، فرنٹیئر ریزرو پولیس کے دفاترپر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔ ان سرکاری دفاتر پر طالبان نے منگل کی شام کو قبضہ کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق مینگورہ شہر کے بڑا حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور انہوں نے شہر کی بڑی بڑی عمارتوں پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ سوات میں منگل کے برعکس بدھ کو کرفیو میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں کی گئی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شیلنگ کے بعد شاہ درہ کے رہائشیوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ ان کے بقول کرفیو کے نفاذ اور شہرکی اہم سڑکوں پر طالبان کے قبضے کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کے لیے تنگ و تاریک گلیاں استعمال کررہے ہیں دریں اثناء طالبان ترجمان مسلم خان نے اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے مختلف مقامات پر حملوں میں 20 سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کر نے کا دعویٰ کیا ہے تاہم فوج نے مسلم خان کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے دوجوان شہید ہوئے ہیں ۔ایک صحافی نے برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ مینگورہ کے شاہ درہ علاقے میں طالبان کے زیر کنٹرول زمرد کی کانوں پر ہونے والی بمباری میں ہلاک ہونے والے 20 افراد میں سے 16 افراد کی لاشیں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 12 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاشیں مختلف مکانوں سے نکالی گئی ہیں جن میں بعض کی جسم کے اعضاء بھی نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق شاہ درہ علاقے میں واقع ڈاکٹر گیان پرکاش کی کلینک میں بھی دو لاشیں پڑی ہیں جبکہ تیس سے زائد زخمی لائے گئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ ڈاکٹر پر کاش نے برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد مارٹر گولوں کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی ہے مگر انہیں باقاعدہ علاج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز اور ڈی سی او سوات سے رابطہ کیا مگر انہوں نے سردست اس سلسلے میں مدد دینے سے معذرت کی۔ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بلوگرامہ کے علاقے میں بھی نقل مکانی کرنے والے افراد پر کرفیو کی مبینہ خلاف ورزی کرنے پر فائرنگ کی گئی ہے جس میں بھی3 خواتین سمیت چار افراد جاں بحق ہوئے اس سے قبل منگل کی رات کو بھی باچا صیب محلہ میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرا تھا جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ پولیس لائن کے قریب ایک شخص کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق37 عام شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی نہیں ہے اور پپنے کے پانی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ہاسٹلوں کی کینٹین میں خوارک کی اشیاء ختم ہوگئی ہیں اور ہم اس وقت بسکٹ پر گزارہ کررہے ہیں۔ ہم حکومت سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ادھر سیدو شریف میڈیکل کالج کے تقریباً ستر طلبہ و طالبات گزشتہ دو دنوں سے اپنے ہاسٹلوں میں محصور ہیں۔ ایک طالبعلم محمد رفیع نے فون پر برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ اس وقت چالیس طالبات اور تیس طلبہ ہاسٹلوں میں محصور ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم پڑ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی نہیں ہے اور پپنے کے پانی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ہاسٹلوں کی کینٹین میں خوارک کی اشیاء ختم ہوگئی ہیں اور وہ اس وقت بسکٹ پر گزارہ کر رہے ہیں ۔

سکھوں کی حسن ابدال نقل مکانی

سکھ خاندان

بونیر سے پنجہ صاحب پہنچنے والے افراد نے کہا ہے کہ امن قائم ہونے تک وہ یہیں رہیں گے

صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں جاری فوجی آپریشن کے خوف سے مقامی سکھوں کے ایک سو چالیس خاندانوں کے بارہ سو سے زائد افراد حسن ابدال میں اپنے مذہبی گردوارہ پنجہ صاحب پہنچے ہیں۔

ان افراد کے ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور یہ لوگ خالی ہاتھ یہاں آئے ہیں۔

بونیر میں سکھ برادری کے ایک کونسلر ڈاکٹر سورن سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گردوارہ پنچہ صاحب میں اب تک ایک سو چالیس خاندان پہنچے ہیں اور مزید خاندان یہاں آ رہے ہیں۔ ’ہمیں کوئی دھمکی نہیں دی گئی ہے بلکہ طالبان جب چار اپریل کو پیر بابا اور دیگر علاقوں میں پہنچے تو انھوں نے ایک پیغام بھجوایا تھا کہ آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان یا مولانا فضل اللہ کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں کی گئی کہ اقلیت کے لوگ جزیہ دیں یا علاقہ چھوڑ دیں۔‘

ایک تاجر نے، جو اپنی دکان بند کر کے بچوں سمیت حسن ابدال پہنچے ہیں، کہا کہ طالبان شہر میں گھومتے تھے، خرید و فروخت کرتے تھے اور رقم ادا کرکے جاتے تھے۔ ’ہمیں ان سے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں تھا۔‘

اورکزئی ایجنسی سے سکھ برادری کے افراد کی ہجرت کی خبروں کے بارے میں ڈاکٹر سورن سنگھ نے کہا کہ وہ حسن ابدال تو نہیں پہنچے اور ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ پشاور میں کسی گردوارے میں گئے ہوں لیکن انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ڈاکٹر سورن سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ان کی مدد کر رہی ہے۔

ہمیں کوئی دھمکی نہیں دی گئی ہے بلکہ طالبان جب چار اپریل کو پیر بابا اور دیگر علاقوں میں پہنچے تو انھوں نے ایک پیغام بھجوایا تھا کہ آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔طالبان کے ترجمان مسلم خان یا مولانا فضل اللہ کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں کی گئی کہ اقلیت کے لوگ جزیہ دیں یا علاقہ چھوڑ دیں۔‘

ڈاکٹر سورن سنگھ

اسلام آباد کے مغرب میں تقریباً پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر حسن ابدال میں واقع گردوارہ پنجہ صاحب میں موجود لوگوں نے بتایا کہ وہ اٹھائیس اپریل کو بونیر سے روانہ ہوئے اور اب انھیں یہ اطلاع ملی ہے کہ علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔ راستے بند کر دیے گئے ہیں اور شہر تقریبًا خالی ہے۔

بیشتر لوگ اپنی دکانیں اور گھر ایسے ہی چھوڑ کر آئے ہیں۔ان لوگوں میں زیادہ تعداد تاجروں کی ہے لیکن اس کے علاوہ ڈاکٹر، انجینیئر اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کا ایک فرد وہاں موجود ہے تاکہ وہ املاک کا خیال رکھے۔

گردوارہ پنجہ صاحب میں امن کے قیام کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔ خواتین مذہبی کتابوں کی تلاوت کرتی ہیں۔

یہ پناہ گزین خود اپنے لیے لنگر تیار کرتے ہیں اور ان میں خواتین زیادہ متحرک تھیں۔ گوردوارہ پنجہ صاحب میں کھانے کی تیاری کے دوران ٹیپ ریکارڈر پر بھجن اور مذہبی گیت سنے جا رہے تھے۔

حسن ابدال میں قائم گردوارہ پنجہ صاحب سکھوں کا اہم مذہبی مرکز ہے۔ بونیر سے یہاں پہنچنے والے افراد نے کہا ہے کہ جب تک ان کے علاقے میں امن قائم نہیں ہو جاتا وہ یہیں قیام کریں گے۔

واضح رہے کہ حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حالیہ بیان کے مطابق فوجی آپریشن کے دوران بونیر سے سینکڑوں کی تعداد میں مقامی شہریوں کی نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ایمنسٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کی باقاعدہ ایک نظام کے تحت امداد کی ضرورت ہے۔

دلاور خان وزیر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور


بونیر کبھی امن کا گہوارہ تھا

صوبہ سرحد کا شمالی ضلع بونیر کبھی امن کا گہوارہ اور تمام پشتونوں میں صوفی بزرگ سید علی ترمزی المعروف پیربابا کے مزار کے حوالے سے مشہور تھا۔اب ملک میں جاری بد امنی کی لہر نے اس شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں میں لے لیا ہے۔

ضلع بونیر سن انیس سو انہتر سے پہلے ریاست سوات کا حصہ تھا جو بونیر سب ڈویژن کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور سوات کو پاکستان میں شامل کرنے کے بعد بونیر ملاکنڈہ ڈویژن کا ایک ضلع بن گیا۔

ریاست سوات میں چار ضلعے تھے جس میں بونیر، سوات، شانگلا اور ملاکنڈہ ایجنسی شامل ہیں۔

بونیر ایک چھوٹا سا شہر ہے یہاں کے لوگوں کا بہت کم انحصار زراعت اور تجارت پر ہے۔ بونیر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے باہر مزدوری کرتے ہیں۔ جن میں دبئی، ملائشیا، امریکہ اور یورپ کے ممالک شامل ہیں۔

بونیر کے شمال مغرب میں سوات ہے جہاں گزشتہ سال فوجی آپریشن میں شدت آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی اور ان میں سے کچھ لوگ بونیر بھی آگئے تھے۔ بونیر سے ملے ہوئے علاقوں میں ملاکنڈہ، مانسہرہ کے علاقہ کالا ڈھاکہ، مردان، صوابی اور ضلع شانگلا کے علاقے شامل ہیں۔ بونیر اسلام اباد سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بونیر میں پہلے نہ کوئی غیر قانونی ایف یم چینل تھا اور نہ ہی اس سے پہلے یہاں طالبان کا کوئی مرکز قائم تھا۔

البتہ جب انیس سو چورانوے میں صوفی محمد نے نفاذ شریعت محمدی تحریک کا آغاز کیا تو باقی علاقوں کی طرح بونیر کے لوگوں نے ان کا ساتھ دیا۔ اور انیس سو چورانوے میں بونیر کے علاقے امبیلہ میں تحریک نفاذ شریعت کے کارکنوں اور ایف سی کے درمیان جھگڑہ ہواتھا جس میں بونیر سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد ہلاک ہوگے تھے۔

بونیر میں صوبہ سرحد کے دوسرے علاقوں کی طرح مذہبی تنظمیں بھی بہت کم ہیں اور صرف اشاعت توحید وسنت ایک مذہبی تنظیم علاقے میں موجود ہے لیکن ان کے کارکنوں کی تعداد اتنا زیادہ نہیں ہے۔اس تنظیم کے امیر والی اللہ ہے اور ان کی سرگرمیاں صرف پیربابا تک محدود ہے۔

دو ہزار آٹھ میں بھی سوات کے طالبان نے بونیر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ جس میں بونیر کے علاقے شلبانڈی کے مقام پر مقامی لوگوں کے ایک لشکر سے طالبان کا تصادم ہوا تھا جس میں چھ طالبان مارے گئے تھے۔

اس کے بعد طالبان واپس سوات لوٹ گئے تھے۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد ضمنی انتخابات کے موقع پر شلبانڈی کے ایک پولینگ سٹیشن کے قریب ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں اڑتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے بعد جب طالبان دوبارہ بونیر میں داخل ہوئے تو کسی نے بھی مزاخمت نہیں کی اور علاقے میں طالبان کے خوف سے لوگوں نے طالبان کے خلاف بولنا بھی بند کردیا اور ساتھ ہی میوزک اور حجاموں کے کاروبار بھی مقامی طالبان کے کہنے پر بند ہوگئے تھے۔

تقریباً دو ہفتے قبل آنے والے سوات کے طالبان ایک معاہدے کے تحت اب واپس جارہے ہیں۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ کل شانگلہ سے بھی طالبان کو نکالا جائے گا۔

لیکن طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کے طالبان علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں تاہم بونیر کے مقامی طالبان علاقے میں رہ کر شریعت کی دعوت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے اس بات سے انکار کردیا کہ شانگلہ میں بھی طالبان موجود ہیں۔

محمد اسد بونیر میں ایک نجی سکول میں استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیا تھا اور اکثر گرلز سکول غیر اعلانیہ طور پر بند ہوگئے تھے۔ اب طالبان کے جانے کے بعد لوگوں میں تو خوشی کی لہر دوڑگی ہے لیکن پھر بھی لوگوں میں یہ خوف موجود ہے کہ طالبان دوبارہ آئینگے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے بونیر میں طالبان نہیں تھے اب بونیر میں بھی مقامی طالبان کے نام سے طالبان موجود ہیں۔

سوات: عارضی بندوبست، طالبان کی تنظیم نو

سوات معاہدہ ایک عارضی بندوبست ہے: صدر زرداری

اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی طاقت اور مذاکرات کو شدت پسندی کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے نہیں بلکہ ایک قلیل المیعاد سیاسی اور عسکری حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

سولہ فروری کو سوات میں تشدد روکنے کے لیے جب امن معاہدہ ہوا اور امریکہ نے معاہدے پر شدید تنقید شروع کردی تو صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور افغانستان کے لیے صدر اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک سے کہا تھا کہ ’سوات معاہدہ ایک عارضی بندوبست ہے‘۔

یہ کہہ کر سربراہِ مملکت نے اسی روز ہی سوات معاہدے کی پائیداری کے ساتھ جڑی ہوئی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ سوات میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے باوجود گزشتہ چند روز سے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں نے ان کی بات درست ثابت کردی۔

حکومت کی اس ’عارضی بندوبست‘ سے خود حکومت نے نہیں بلکہ طالبان نے بھرپور انداز میں استفادہ کیا۔ ان ڈھائی مہینوں میں طالبان نے خود کو اتنا منظم کردیا ہے کہ اس بار مبصرین کے بقول چھڑنے والی جنگ ماضی کے مقابلے میں شدید ہوسکتی ہے۔

مذاکرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان نے چار سطحوں پر خود کو منظم کرتے ہوئے اپنی قوت میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ان میں مسلح تنظیم نو، توسیع پسندانہ اقدامات، بھرتی اور تربیت، لاجسٹک ،ٹرانسپورٹیشن اور عسکری تیاریاں شامل ہیں۔

مسلح تنظیم نو

مذاکرات سے قبل سوات میں طالبان کی تنظیمی ساخت ڈھیلی ڈھالی تھی جس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ حالت جنگ میں تھے اور اتنا موقع میسر نہیں آتا کہ وہ تنظیمی ساخت کو مضبوط کرتے۔ جنگ کی وجہ سے ان کے بعض ذمہ دار ساتھی یا تو ہلاک ہوئے تھے یا گرفتار، اور باقی روپوش ہوگئے تھے۔ انہیں آپس میں مشاورت کرنے کاموقع کم ہی میسر آتا۔

لیکن مذاکرات کے بعد جب فوج اپنی بیرکوں میں واپس چلی گئی تو طالبان نے تنظیمی ساخت کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے پہلی بار یونٹ، گاؤں، یونین، تحصیل اور ضلع کی سطح پر اپنی تنظیم نو کی اور کمانڈر اور نائب کمانڈر اور اسی ترتیب سے نیچے تک مختلف افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

محلے کی سطح پر ان کے جاسوسی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا

اس کے علاوہ انہوں نے کاموں کو بھی تقسیم کیا اور سبھی شعبوں کو علیحدہ علیحدہ کرتے ہوئے ذمہ داران کو مقرر کردیا گیا۔ مثلاً شرعی عدالتوں، جاسوسی کرنے، معاملات نمٹانے، شعبہ عروسات( میرج بیورو) وغیرہ کو مزید وسیع کرتے ہوئے انہیں مضبوط کیا۔

بھرتی اور تربیت

سوات میں یونٹ کی سطح پر طالبانائزیشن کے منتقل ہونے سے مقامی لوگوں کے مطابق طالبان کو کئی طریقوں سے فائدہ پہنچا۔ محلے کی سطح پر ان کے جاسوسی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ پہلے جب کبھی لوگ نجی محافل میں طالبان کو ہدف تنقید بناتے بھی تو انہیں ڈر نہیں لگتا تھا لیکن اب لوگ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے انتہائی محتاط ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بات کرنے سے اجتناب ہی کرے۔

پہلے نجی محافل میں طالبان پر ہونے والی تنقید میں ان نوجوانوں کو تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آجاتا جو یا تو طالبان سے متاثر تھے یا پھر ایسی ذہنی کیفیت سے گز رہے تھے کہ وہ کسی بھی وقت ان کی صفوں میں شامل ہوسکتے تھے۔ لیکن اب نجی محفلوں میں اس سلسلے کے رک جانے سے تھوڑی بہت ’زبانی مزاحمت‘ بھی دم توڑ گئی اس لیے طالبان کو نوجوانوں کے بھرتی کرنےمیں آسانی ہوئی۔

یونٹ کی سطح پر تنظیم نو سے طالبان کو یہ فائدہ بھی پہنچا کہ انہوں نے نوجوان طبقے کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگی ترانے اور دیگر عسکری مواد پر مشتمل سی ڈی فلمیں تقسیم کیں۔ اس کا ایک اثر تو یہی ہوا کہ طالبان معاشرے خصوصاً نوجوان طبقے میں ’آئیڈیالائز‘ ہوگئے۔ مینگورہ اور سیدو شریف میں بچوں کا یہ جنگی ترانہ گنگنانا اس کی ایک اچھی مثال ہے کہ ’جنگ د یوویشتمی صدئی طالب گٹلئی دئی‘ (اکیسویں صدی کی جنگ طالبان نے جیت لی ہے)۔

یونٹ کی سطح پر تنظیم نو اور طالبان کا فوج کو شکست دینے نے انہیں معاشرے میں جب آڈیالائیز کیا تو پورے سوات میں بڑے پیمانے پر سولہ سے پچیس سال کے درمیان عمر کی نوجوانوں کی بھرتی اور تربیت کا عمل شروع ہوگیا۔ مختلف ذرائع سے جمع کی جانے والی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ انتہائی محتاط اندازے کے مطابق ان ڈھائی مہینوں کے دوران طالبان نے پانچ ہزار کے قریب نوجوان بھرتی کئے ہیں جنہیں تربیت دینے کے لیے اب تربیت گاہوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔

لاجسٹک، ٹرانسپورٹیشن اور عسکری تیاریاں

ان ڈھائی ماہ کے دوران طالبان نے اپنے استعمال کے لیے بڑی تعداد میں گاڑیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر لوئر دیر اور بونیر میں طالبان کی جانب سے این جی اوز اور حکومتی اہلکاروں سے قبضہ میں لی گئی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے سوات کے زیادہ تر علاقوں میں سرکاری سڑکوں کے علاوہ اپنی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے نئی نئی کچی سڑکیں بھی تعمیر کی ہیں۔

سرکاری سڑکوں کے علاوہ اپنی نقل و حرکت کو کے لیے نئی کچی سڑکیں بھی تعمیر کی ہیں

اس کے ساتھ انہوں نے مستقبل میں فوجی کارروائی کے شروع ہونے اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مختلف علاقوں جیسے مینگورہ کالام، مینگورہ مٹہ، مینگورہ شاہ ڈھیرئی اور مینگورہ مالم جبہ سڑکوں کے کنارے بارودی سرنگیں بھی بچھائی ہیں۔

توسیع پسندانہ اقدامات

حکومت کو امن معاہدے پر مجبور کرنے اور ڈیڑھ سالہ لڑائی میں سکیورٹی فورسز کو بظاہر شکست دینے نے طالبان کے مورال اور احساس تفاخر کو اتنا قوی کردیا کہ انہوں نے پہلی بار اپنی سرگرمیوں میں بین لاقوامی اہداف کا اظہار کرتے ہوئے القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی بات کی۔ اس سے قطع نظر کہ ان کے لیے ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا لیکن اس قسم کی خواہش رکھنے کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے۔

مذاکرات کے بعد طالبان اپر سوات یعنی تحصیل مٹہ، کبل اور چہار باغ سے اپنی کنٹرول کو وسعت دیتے ہوئے سوات کے ایسے علاقوں میں اپنی مکمل رٹ قائم کردی جہاں پر پہلے ان کی عملداری نہیں تھی۔ ان علاقوں میں جامبیل، کوکارئی اورمرغزارشامل ہیں۔ سوات کے ان علاقوں کی سرحدیں ضلع بونیر سے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بونیر کی جانب پیشدمی میں آسانی ہوئی۔اس کے علاوہ ان کی سرگرمیاں لوئر دیر تک بھی پہنچ گئی ہیں۔

 
     
     

Copyright & copy © 2009 Buner Valley.
All rights reserved